9 جنوری 2013 - 20:30

یورپ میں بے روزگاری کی شرح میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہوا ہے ۔ ان ممالک میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح میں اضافہ مغربی ممالک میں جاری اقتصادی بحران کا نتیجہ ہے ۔ لگژانبرگ میں قائم یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مرکز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ یورپی ملکوں میں جاری اقتصادی بحران کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔

ابنا: اس رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کے سب سے زیادہ بری صورتحال اسپین میں ہے جہاں یہ شرح چھبیس اعشاریہ چھبیس فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اسپین کے بعد دوسرا ملک یونان ہے جہاں بے روزگاری کی شرح چھبیس فیصد ہے ۔ مجموعی طور پر یورپی ممالک میں صرف نومبر کے مہینے میں اٹھارہ میلین آٹھ سو لاکھ افراد بے روزگاری کے بھینٹ چڑھے ہیں ۔یورپی ممالک بالخصوص پرتقال ، اسپین ، اٹلی اور یونین میں ٹیکسوں کی کٹوتی کا نیا نظام نافذ کیا گيا ہے اور اس سے یورپی عوام کی اقتصادی مشکلات میں بہت زيادہ اضافہ ہوا ہے اسکے باوجود اس بحران سے نکلنے کے لئے یہ اقدامات کافی ثابت نہیں ہوئے ہیں ۔
اقتصادی بحران اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے یوروزون اور یورپی یونین میں زيادہ فرق نہیں ہے ۔
یورپی یونین کے ستائیس ملکوں میں چھبیس میلین ایک لاکھ سے زيادہ افراد بے روزگار ہے جس سے بے روزگاری کی شرح کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
بے روزگاری اور اقتصادی بحران نے یورپی عوام کے انداز زندگی پر ہی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں مثال کے طور پر یورپی ملکوں میں کرسمس کے ایام میں ایک دوسرے کو تحفے دینے کا عام رواج ہے لیکن اس سال مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ کرسمس کے رسم و رواج کو روایتی انداز سے نہ منا سکے ۔ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ کے نصف عوام کرسمس کے لئے مناسب خوراک کا انتظام نہ کرسکے اسی طرح برطانیہ کی نصف آبادی نے قرض لیکر کرسمس کی خریداری انجام دی رفاحی ادارہ ٹرسل ٹرسٹ جو کرسمس کے ایام میں غریب افراد کو غذا مہیا کرتا ہے کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال غذا لینے والے افراد کی تعداد میں اسی فیصد اضافہ ہوا ہے اٹلی کی پچاس فیصد آبادی نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ بے روزگاری اقتصادی بحران اور مہنگائی کی وجہ سے وہ کرسمس کے لئے نہ تو نئے لباس خرید سکے ہیں اور نہ ہی تحفوں کا تبادلہ کرسکے ۔
اٹلی میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق بہت سے لوگوں نے اپنے شہر سے باہر تعطیلات گزارنے کا پروگرام بھی منسوخ کردیا تھا ۔
یورپ میں ایسی حالت میں اقتصادی بحران شدت پکڑ رہا ہے کہ یورپی حکام نے اعلان کیا تھا کہ یورپ جلد ہی اس اقتصادی بحران پر قابو پالے گا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یورپ کا اقتصادی بحران نئے سال یعنی 2013 میں بھی بدستور جاری رہیگا اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے یورپی حکام اور عوام اچھی طرح واقف ہیں ۔

.......

/169